عمر اکمل نے ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں اپنے کیریئر کو تباہ کرنے کے الزامات ہیڈ کوچ وقار یونس پر عائد کیے ہیں، جن میں کہا گیا کہ سابق کوچ نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی اور کمائی سے حسد کرتے تھے۔ یہ انٹرویو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا۔
عمر اکمل کے مطابق وقار یونس نے ان سے سوال کیا کہ وہ نئی گاڑی اور برانڈڈ کپڑے کہاں سے لے رہے ہیں، جب کہ اللہ نے دیا ہے تو وہ اپنے خاندان کے لیے چیزیں کیوں نہ خریدیں۔
انہوں نے کہا کہ وقار یونس کے رویے سے صرف وہ نہیں بلکہ دیگر کھلاڑی، جیسے رانا نویدالحسن بھی پریشان تھے۔
عمر اکمل نے دعویٰ کیا کہ ورلڈ کپ 2016 کے دوران انہوں نے پی سی بی کو شکایت کی تھی کہ اگر وقار یونس کو ہٹا دیا جائے تو ٹیم کی کارکردگی بہتر ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق وقار یونس کوچ کے طور پر غیر ضروری دباؤ ڈالتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں ٹیم سے کارکردگی کی وجہ سے نہیں بلکہ ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر نکالا گیا تھا۔
35 سالہ عمر اکمل نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے غیر ملکی لیگز کی پیشکشیں اس لیے ٹھکرائیں تاکہ پاکستان کی نمائندگی جاری رکھ سکیں، کیونکہ ان کی اولین ترجیح ہمیشہ قومی ٹیم رہی ہے۔





