سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے ماورائے عدالت قتل، حراستی تشدد اور طاقت کے بے تحاشہ استعمال کو جمہوری معاشرے میں سب سے زیادہ ناقابل برداشت جرائم قرار دیا اور کہا کہ یہ آئین کی بدترین خلاف ورزی ہیں۔
یہ ریمارکس انہوں نے تربت میں محمد حیات مرزا کے قتل کے کیس میں اپنے اختلافی نوٹ میں دیے۔ ملزم شادی اللہ کو ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی، لیکن سپریم کورٹ نے 17 ستمبر 2025 کو 2-1 کی اکثریت سے سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا، جس پر جسٹس من اللہ نے اختلاف کیا۔
جسٹس من اللہ نے کہا کہ جب قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو یہ قانون کی حکمرانی کو تباہ کرتا ہے، اور طاقت کا غلط استعمال ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یونیفارمڈ فورسز، جیسے ایف سی بلوچستان، کو شہریوں کے ساتھ اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور مثال طرز عمل کے ساتھ کام کرنا چاہیے، اور کسی بھی جارحیت یا غیر قانونی کارروائی معاشرتی اور آئینی لحاظ سے ناقابل برداشت ہے۔
جسٹس من اللہ نے مزید کہا کہ سزا نہ صرف مجرم کے لیے ہے بلکہ معاشرے کی اصلاح اور دوسروں کے لیے سبق کے طور پر بھی ضروری ہے۔





