پنجاب کا امتحانی نظام دیگر صوبوں سے بہتر ہے، پورا امتحانی سنٹر نہیں بکتا: عظمیٰ بخاری

0
486

صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب میں امتحانی نظام ملک کے تمام صوبوں سے بہتر ہے اور یہاں پورا پورا امتحانی سنٹر فروخت نہیں ہوتا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہدا کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے، پاکستان کی تاریخ میں 16 دسمبر 2014ء کا دن کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اب بھی دہشت گردی کی لہر موجود ہے جبکہ افواجِ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں۔ اے پی ایس کے شہدا کے لیے دلی دعائیں کرتے ہیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے گورننس، شفافیت اور میرٹ کا نیا ماڈل متعارف کرایا ہے۔ برمنگھم میں بھی وزیراعلیٰ مریم نواز کے گورننس ماڈل کو اپنانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ دنیا بھر میں پنجاب میں ہونے والی ترقی کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ راولپنڈی میں دوسرے آئی ٹی سٹی کی منظوری دے دی گئی ہے، جبکہ پہلا آئی ٹی سٹی لاہور میں زیر تعمیر ہے۔ گوجرانوالہ میں نیا کارڈیالوجی ہسپتال بنایا جا رہا ہے اور وزیراعلیٰ مریم نواز نے 720 محنت کشوں کے فلیٹس کی قرعہ اندازی بھی کی ہے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جلد محنت کشوں کو فلیٹس کی چابیاں دی جائیں گی، مزید 1872 فلیٹس 18 ماہ میں مکمل ہوں گے، جبکہ بیواؤں اور خصوصی افراد کو بغیر قرعہ اندازی کے فلیٹس دیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب نے گندم کی پیداوار میں نیا ریکارڈ قائم کیا ہے اور مقررہ ہدف حاصل کر لیا ہے۔ پنجاب میں صرف کام ہی نہیں بلکہ معجزات ہو رہے ہیں۔

اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ یوریا کھاد اب بلیک میں فروخت نہیں ہو رہی۔ ان کے ضلع میں پہلے کھاد دکانوں پر دستیاب نہیں ہوتی تھی، تاہم اب پنجاب کی گندم کی ضرورت ایک کروڑ 40 لاکھ ایکڑ پر پوری ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب دیگر صوبوں کو بھی گندم فراہم کرتا ہے، جبکہ بعض صوبے اپنا گندم کا ہدف پورا نہیں کر پا رہے۔ اس بار مونجھی کی باقیات جلانے میں 70 فیصد کمی آئی ہے۔

عاشق حسین کرمانی کے مطابق جب حکومت سنبھالی گئی تو پنجاب میں صرف 300 سپر سیڈرز تھے، جبکہ اب یہ تعداد 5 ہزار 300 ہو چکی ہے۔ اگلے سال پنجاب میں 10 ہزار سے زائد سپر سیڈرز ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ دعوے کیے جا رہے تھے کہ پنجاب میں گندم کا ایک ایکڑ بھی دستیاب نہیں ہوگا، تاہم پنجاب میں ایک کروڑ 67 لاکھ ایکڑ رقبے پر گندم کاشت کی گئی ہے۔ حکومت اب تک 10 لاکھ کاشتکاروں کو ڈھائی سو ارب روپے کسان کارڈ کے ذریعے فراہم کر چکی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا