قرآن پر حلف اٹھانے والی پہلی خاتون برطانوی لارڈ چانسلر

0
220

پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ شبانہ محمود نے برطانیہ کی پہلی خاتون مسلمان لارڈ چانسلر کے طور پر حلف اٹھالیا ہے، ان کا خاندانی تعلق جہلم کے علاقے سے ہے۔ مذکورہ تقریب برطانوی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ شبانہ محمود نے قرآن پاک پر حلف اٹھایا، قانون کے مطابق لارڈ چانسلر سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے انصاف اور ولی عہد کا وزیر ہے، جو انگلینڈ اور ویلز میں عدالتوں اور قانونی امداد کا ذمہ دار ہے۔

تقریب کی صدارت کرتے ہوئے پہلی خاتون چیف جسٹس ڈیم سو کار نے اس تاریخی موقع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ایک ‘ٹرپل فرسٹ’ سے عبارت ہے: قرآن پر حلف اٹھانے والی پہلی لارڈ چانسلر، پہلی خاتون لارڈ چانسلر، اور پہلی بار ایک خاتون چیف جسٹس نے لارڈ چانسلر سے حلف لیا ہے۔

’یہ سنگ ہائے میل ہمارے آئین کے مستقل ارتقاء کی نمائندگی کرتے ہیں جو اس معاشرے کا عکاس ہے جس کی وہ خدمت کرتا ہے۔‘

اپنی پیشہ ورانہ وکالت اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی مضبوط جڑوں کے ساتھ فعالیت کے لیے مشہور شبانہ محمود نے حلف اٹھانے کے بعد اظہار تشکر اور عزم کا اظہار کرتے ہوئے برمنگھم کے علاقے اسمال ہیتھ میں اپنے والدین کی دکان پر کام کرنے سے لے کر اپنے موجودہ کردار اور مرتبے تک پہنچنے کے اپنے سفر پر روشنی ڈالی۔

شبانہ محمود کے مطابق کسی بھی شعبے میں اولین ہونا ایک استحقاق اور ذمہ داری دونوں سے مبرا نہیں۔ ’اس حق کا حصول آئندہ نسلوں کے لیے دروازے کھول سکتا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زمین پر موجود قدیم ترین عہدے بھی ہم سب کی پہنچ میں ہیں۔‘

شبانہ محمود نے یہ بھی بتایا کہ وہ پہلی لارڈ چانسلر ہیں جو اردو بول سکتی ہیں، اس تقریب میں شریک لا سوسائٹی کے صدر نک ایمرسن اور بار چیئر سیم ٹاؤن اینڈ سمیت ممتاز شخصیات نے شبانہ محمود کی انصاف کے لیے لگن کی تعریف کرتے ہوئے برطانوی قانونی نظام پر ان کے کردار کے مثبت اثرات کی توقع کی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا