سلیمان شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز چنیوٹ پاور لمیٹڈ نامی آئی پی پی کے مالک ہیں۔ اس کمپنی کو مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں 11 جون 2014 کو لائسنس جاری کیا گیا اور 30 جون 2045 تک 62.4 میگاواٹ بجلی بنانے کا معاہدہ کیا گیا۔ گزشتہ سال اس آئی پی پی نے 33 فیصد بجلی بنائی جبکہ اس کمپنی کو 1 ارب 55 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔
جہانگیر خان ترین
سینئر سیاستدان اور ماضی میں پاکستان تحریک انصاف کی ’ اے ٹی ایم‘ سمجھے جانے والے جہانگیر خان ترین کے تین بجلی بنانے والے کارخانے ہیں۔ اے جے پاور پرائیویٹ لمیٹڈ، جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز یونٹ 2 اور جے ڈی ڈبلیو یونٹ 3۔ ایک آئی پی پی سے 12 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے اکتوبر 2015 سے مارچ 2041 جبکہ دیگر 2 سے مجموعی طور پر 52.70 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے ستمبر 2013 سے دسمبر 2043 تک کے معاہدے کیے گئے ہیں۔
جہانگیر خان ترین کے آئی پی پی جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز یونٹ 2 کو گزشتہ سال ایک ارب 9 کروڑ اور جے ڈی ڈبلیو یونٹ 3 کو 77 کروڑ روپے کے کیپیسٹی چارجز ادا کیے گئے۔
عبد الرزاق داؤد
سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق مشیر اور 1999 سے 2002 تک جنرل پرویز مشرف کی کابینہ میں شامل عبد الرزاق دائود روش پاکستان پاور لمیٹڈ نامی آئی پی پی کے مالک ہیں۔ ان کی کمپنی کو 28 اگست 2006 کو لائسنس جاری کیا گیا۔ اس کمپنی کے ساتھ 25 اگست 2029 تک 450 میگاواٹ بجلی بنانے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ اس کمپنی نے گزشتہ سال صرف 4 فیصد بجلی پیدا کی اور اسے 6 ارب 88 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔
ندیم بابر
سابق وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر دو آئی پی پیز کے مالک ہیں۔ ان کی کمپنی صبا پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کو 26 اگست 2003 کو لائسنس جاری کیا گیا۔ اس کمپنی کے ساتھ 25 اگست 2029 تک 134 میگاواٹ بجلی بنانے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ کمپنی نے گزشتہ سال صرف 11 فیصد بجلی بنائی اور اس کمپنی کو 3 ارب 13 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔
کاروباری شخصیت میاں منشا کی آئی پی پیز
پاکستان کے معروف کاروباری شخصیت میاں منشا کا منشاء گروپ چار آئی پی پیز کا مالک ہے۔ ان کی کمپنیوں اے ای ایس لالپیر پرائیویٹ لمیٹڈ کو 26 اگست 2003 کو لائسنس جاری کیا گیا۔ اس کمپنی کے ساتھ 25 اگست 2027 تک 362 میگاواٹ بجلی کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ اس کمپنی نے گزشتہ سال 25 فیصد بجلی پیدا کی۔ اسے 8 ارب 48 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔
منشاء گروپ کی دوسرے آئی پی پی اے ای ایس پاک جنریشن پرائیویٹ کمپنی کو 26 اگست 2003 کو لائسنس جاری کیا گیا۔ اس کمپنی کے ساتھ 25 اگست 2026 تک 365 میگاواٹ بجلی بنانے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ اس کمپنی نے گزشتہ سال 20 فیصد بجلی پیدا کی اور اسے 8 ارب 51 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔
گزشتہ سال سب سے زیادہ کیپیسٹی چارجز چائنہ ہب نامی کمپنی کو 142 ارب 82 کروڑ روپے ادا کیے گئے، اس کمپنی سے 132 میگاواٹ بجلی بنانے کا معاہدہ کیا گیا۔ اس نے صرف 15 فیصد بجلی پیدا کی۔ اس کے بعد پورٹ قاسم آئی پی پی کو 121 ارب روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔ پورٹ قاسم سے 1320 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ کیا گیا اور اس نے 18 فیصد بجلی پیدا کی۔ شنگھائی الیکٹرک تھر کول پاور جنریشن نامی آئی پی پی کو 121 ارب روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے، اس کمپنی سے 1320 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ کیا گیا اور اس نے 68 فیصد بجلی پیدا کی۔






