غزہ شہر کے 40 فیصد حصے پر اسرائیلی فوج کا قبضہ،53 افراد شہید

0
108

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ غزہ شہر کے 40 فیصد حصے پر اسرائیل کا کنٹرول ہے، اس کی بمباری نے مزید فلسطینیوں کو وہاں اپنے گھروں سے بے دخل کرنے پر مجبور کر دیا، جبکہ ہزاروں رہائشیوں نے اسرائیلی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل کی تازہ پیش قدمی کی راہ میں کھنڈرات میں رہ گئے۔غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز اسرائیلی فائرنگ سے کم از کم 53 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے زیادہ تر غزہ شہر میں تھے،

جہاں اسرائیلی افواج بیرونی مضافاتی علاقوں سے گزر چکی ہیں اور اب شہر کے مرکز سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ہم حماس کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ آج غزہ شہر کے 40 فیصد علاقے پر ہمارے قبضے ہیں۔ آنے والے دنوں میں آپریشن میں توسیع اور شدت جاری رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ “ہم ہر جگہ حماس کا تعاقب جاری رکھیں گے”

، انہوں نے مزید کہا کہ یہ مشن صرف اس وقت ختم ہوگا جب اسرائیل کے باقی یرغمالیوں کی واپسی ہوگی اور حماس کی حکمرانی ختم ہوگی۔ڈیفرین نے تصدیق کی کہ آرمی چیف آف اسٹاف ایال ضمیر نے کابینہ کے وزراء کو بتایا کہ ایک دن کے منصوبے کے بغیر انہیں غزہ میں فوجی حکمرانی نافذ کرنا پڑے گی۔ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کے انتہائی دائیں بازو کے ارکان اسرائیل پر زور دے رہے ہیں کہ وہ غزہ میں فوجی حکمرانی نافذ کرے اور وہاں بستیاں قائم کرے، جس سے نیتن یاہو نے اب تک انکار کیا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا