آزاد کشمیر کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت پاکستان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے۔ کمیٹی کے مطابق حکومت نے ان کے تمام مطالبات منظور کر لیے ہیں اور معاہدے پر باقاعدہ دستخط بھی ہوچکے ہیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بتایا کہ وہ 38 مطالبات لے کر نکلے تھے مگر مذاکرات کے نتیجے میں 42 نکات پر اتفاق کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق حکومت نے ان کے تمام بڑے مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔
معاہدے کے تحت یکم اور 2 اکتوبر کو جاں بحق ہونے والے شہریوں کے لواحقین کو پولیس اہلکاروں کے برابر معاوضہ دیا جائے گا، زخمیوں کو فی کس 10 لاکھ روپے ملیں گے جبکہ جاں بحق افراد کے اہلخانہ کو 20 دن کے اندر سرکاری نوکری بھی فراہم کی جائے گی۔
تعلیم اور صحت کے شعبے میں بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن میں دو نئے تعلیمی بورڈ قائم ہوں گے، جبکہ حکومت نے 15 دن کے اندر صحت کارڈ کے اجرا کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہر ضلعے کے اسپتال میں مرحلہ وار سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشین فراہم کی جائے گی۔
توانائی اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی معاہدے میں اہم نکات شامل ہیں۔ وفاقی حکومت آزاد کشمیر میں بجلی کے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کے لیے 10 ارب روپے فراہم کرے گی۔ اسی طرح میرپور میں بین الاقوامی معیار کے ایئرپورٹ کے قیام کا منصوبہ بھی رواں مالی سال کے دوران تیار کیا جائے گا۔
سیاسی اور انتظامی اصلاحات پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ آزاد کشمیر اسمبلی میں وزرا اور مشیروں کی تعداد کم کرکے 20 تک محدود کی جائے گی جبکہ مہاجرین کی نشستیں اس وقت تک معطل رہیں گی جب تک خصوصی کمیٹی اس پر اپنی سفارشات پیش نہیں کرتی۔
معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندے شامل ہوں گے جو تمام نکات پر عملدرآمد کی نگرانی کریں گے۔






