ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے کہا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کابینہ کے اجلاس میں کہا ہے کہ مصر نے ایرانی صدر کو کل عرب ملک میں عالمی رہنماؤں کے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی ہے۔عراقچی کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے اس دعوت کو مسترد کر دیا تھا
جس کی مصر نے اس کی تجدید کر دی تھی۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ آیا حماس کے اتحادی اور حامی ایران نے اس دوسری دعوت کا جواب دیا ہے یا نہیں۔ایک فلسطینی عہدیدار نے ٹائمز آف اسرائیل کو تصدیق کی ہے
کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کل شرم الشیخ میں غزہ کے بعد غزہ کے بارے میں مصری امریکی سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے ، حالانکہ اسرائیل غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کے لئے جنگ کے بعد کسی بھی کردار کو مسترد کرتا ہے۔
ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ اس تقریب میں فلسطینی اتھارٹی کی نمائندگی نہیں کی جائے گی ، جس میں توقع کی جارہی ہے کہ تقریبا 30 ممالک کے عہدیدار شامل ہوں گے ،ٹرمپ اور سیسی مصر میں غزہ سربراہی اجلاس کی صدارت کریں گے عباس شرکت کریں گے۔
اسرائیل، حماس کو مدعو نہیں کیا گیا۔برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی، ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز، ترک صدر رجب طیب اردوان اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم سمیت کئی رہنماؤں نے شرکت کی تصدیق کی ہے۔






