وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد-تہران-استنبول ٹرین سروس 31 دسمبر سے دوبارہ بحال کی جا رہی ہے۔
لاہور میں ریلوے ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ ریلوے مسافروں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ ریلوے اسٹیشنز کی صفائی، کیفے ٹیریا، اور انٹرنیٹ کی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے، جبکہ ریلوے نظام میں جدت لانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ ریکوڈک منصوبے کے لیے چار سو کلومیٹر نیا ٹریک بچھایا جا رہا ہے، جبکہ ٹریک کی موجودہ کل لمبائی آٹھ سو چوراسی کلومیٹر ہے۔ روہڑی تا کراچی ٹریک کی بہتری کے لیے ورلڈ ایشین بینک سے دو ارب ڈالر کے معاہدے پر بات چیت جاری ہے، جو جولائی 2026ء تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایم ایل ٹو منصوبے پر بھی غور جاری ہے جبکہ شالیمار ایکسپریس کے افتتاح کے لیے وزیرِ اعظم سے سات نومبر کی تاریخ مانگی گئی ہے۔ رحمان بابا ایکسپریس کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔
حنیف عباسی کے مطابق پاکستان ریلوے کی کارگو ایکسپریس سروس سے 3.5 ارب روپے سے زائد آمدنی حاصل ہوئی ہے، اور 23 مارچ 2026ء تک 160 نئی ویگنز نظام میں شامل کی جائیں گی جو مقامی طور پر تیار ہو رہی ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ سیمنٹ انڈسٹری کو بھی ریلوے نیٹ ورک سے جوڑا جا رہا ہے، لاہور تا راولپنڈی ٹرین کا تیسرا ریک 31 اکتوبر اور چوتھا ریک 19 نومبر تک مکمل ہو جائے گا۔ 26 ریلوے پلاٹس کی اوپن آکشن اور 48 گوداموں کو آؤٹ سورس کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈرائیورز اور گارڈز کے رومز کی حالت بہتر بنائی جا رہی ہے، 10 رننگ رومز کی رینوویشن فروری 2026ء تک مکمل کر لی جائے گی، جبکہ ملازمین کے کوارٹرز اور سکھر، روہڑی اسٹیشن کی اپ گریڈیشن پر 80 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔
حنیف عباسی نے بتایا کہ راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر 180 سکیورٹی کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں، اور محکمہ ویجیلنس کو کرپشن، ڈیزل چوری اور زمینوں کے غلط استعمال کے خلاف فعال کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریلوے پولیس میں 1500 اہلکاروں کی بھرتی شفاف انداز میں کی گئی ہے، جس میں کسی قسم کی سفارش شامل نہیں تھی، ان اہلکاروں کی پاسنگ آؤٹ تقریب 4 نومبر کو ہوگی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت کا ریلوے بجٹ 700 ارب روپے جبکہ پاکستان کا صرف 17 ارب روپے ہے، تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ نئے منصوبوں کے ذریعے ریلوے کو خود کفیل بنایا جائے۔
آخر میں انہوں نے بلوچستان کے ریلوے ملازمین، پولیس شہداء اور فوجی جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔






