کے الیکٹرک دو سال میں دیوالیہ ہوسکتی ہے،سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کی پیش گوئی

0
437

سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف سے متعلق فیصلے کو مالی طور پر ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے پیش گوئی کی ہے کہ موجودہ حالات میں کے الیکٹرک آئندہ دو سال میں دیوالیہ ہوسکتی ہے۔

پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (پرائم) کے زیر اہتمام ایک ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے شبر زیدی نے کہا کہ نیپرا کا نیا ملٹی ایئر ٹیرف حکومت کے نجکاری ایجنڈے کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور کراچی کے معاشی استحکام پر منفی اثر ڈالے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیپرا کا تمام شہروں میں یکساں ٹیرف نافذ کرنے کا رویہ زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ ایک نجی بجلی کمپنی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ زیادہ نقصانات والے علاقوں کی بجلی منقطع کرے یا قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے صارفین کا دیگر شہروں سے موازنہ درست نہیں کیونکہ کے الیکٹرک کو مخصوص شہری اور آپریشنل چیلنجز کا سامنا ہے۔

ویبینار میں کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی نے کہا کہ نئے ٹیرف کے تعین میں کمپنی کی مسلسل بہتری اور کراچی کے منفرد حالات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ نجکاری کے بعد کے الیکٹرک نے نقصانات کو 45 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد سے نیچے لایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیول ریفرنس میکانزم میں تبدیلیوں سے کراچی کے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے، تاہم کے الیکٹرک نیپرا اور حکومت سے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

کراچی کے صنعتکار ہارون شمسی نے کہا کہ نیا ٹیرف صنعتی شعبے کے لیے ناقابلِ برداشت ہے، کیونکہ یہ سستی اور مستحکم بجلی پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کراچی کے صارفین کو پی ایچ ایل سرچارج کیوں ادا کرنا پڑ رہا ہے، جو قومی گرڈ کی نااہلیوں کی وجہ سے عائد کیا گیا۔

ایف پی سی سی آئی کی انرجی ایڈوائزری کمیٹی کے رکن ذیشان علی نے خبردار کیا کہ نیپرا کا یہ فیصلہ بجلی کے انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کو متاثر کرے گا۔ ان کے مطابق معمولی بجلی کی رکاوٹیں بھی صنعتی مشینری کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا