استنبول مذاکرات :پاکستان نے افغان طالبان کو حتمی مؤقف پیش کردیا

0
661

استنبول میں ہونے والی بات چیت میں پاکستانی وفد نے افغان طالبان کے وفد کو اپنا حتمی اور دو ٹوک مؤقف پیش کردیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی سرپرستی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ پاکستانی وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس، یقینی اور قابلِ عمل اقدامات ناگزیر ہیں۔

ذرائع کے مطابق طالبان وفد کے دلائل غیر منطقی اور زمینی حقائق سے ہٹ کر تھے۔ پاکستانی وفد نے واضح کیا کہ افغان طالبان کسی اور ایجنڈے پر عمل پیرا نظر آتے ہیں، جو افغانستان، پاکستان اور پورے خطے کے استحکام کے مفاد میں نہیں۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں مزید پیشرفت افغان طالبان کے مثبت رویے پر منحصر ہے۔ پاکستان کے مطالبات واضح، شواہد پر مبنی اور مسئلے کے حقیقی حل کی ضمانت ہیں، جبکہ طالبان کی ہٹ دھرمی اور عدم تعاون دیگر فریقین پر بھی عیاں ہوچکا ہے۔

ذرائع کے مطابق ترکیہ کوشش کر رہا ہے کہ طالبان وفد زمینی حقائق اور شواہد کو سمجھے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے مرکزی نکات پر کسی قسم کے سمجھوتے کو مسترد کردیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز استنبول میں پاکستان اور افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا، جس میں پاکستان نے طالبان کو دہشت گردی کی روک تھام کے لیے جامع پلان پیش کیا تھا۔

یاد رہے کہ قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والے دوحہ مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔

ادھر پاک افغان کشیدگی کے باعث چمن، خیبر، شمالی و جنوبی وزیرستان اور ضلع کرم کے سرحدی راستے بدستور بند ہیں، جبکہ طورخم، خرلاچی، انگور اڈہ اور غلام خان سرحد پر سینکڑوں مال بردار گاڑیاں پھنس کر رہ گئی ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا