مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن ناممکن:صدر اور وزیراعظم کا پیغام

0
556

اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا مسئلہ حل ہونے تک جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حق میں اپنا کردار ادا کرے۔

یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر آصف علی زرداری نے عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں پر جواب دہ ٹھہرائیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مظالم کو فوراً بند کرانے اور دیرینہ تنازع کے پرامن حل کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف جارحانہ رویے کے تناظر میں یومِ سیاہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا انحصار مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل پر ہے، جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی افواج نے سری نگر میں داخل ہو کر بین الاقوامی قوانین، اخلاقی اصولوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کی صریح خلاف ورزی کی۔ یہ دن جدید تاریخ کا ایک سیاہ باب بن گیا۔ ہر سال ہم یہ دن اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی بہادر جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مناتے ہیں۔

آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ بھارت کے دہائیوں پر محیط مظالم کے باوجود کشمیری عوام کی مزاحمتی روح آج بھی قائم ہے۔ 5 اگست 2019 کے بعد بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے فوجی محاصرہ نافذ کیا، املاک تباہ کیں، ظالمانہ قوانین نافذ کیے اور کشمیری عوام کو بنیادی آزادیوں سے محروم کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی بدستور نقل و حرکت، ابلاغ اور اجتماع کی سخت پابندیوں کے تحت ہے، جبکہ جعلی مقابلے، حراستی تشدد، ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیاں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں۔ بھارتی حکام منصوبہ بندی کے تحت کشمیریوں کو ان کی ہی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یومِ سیاہ کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ اور پُرامن حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق نہیں نکلتا۔

انہوں نے کہا کہ ہر سال 27 اکتوبر کشمیر کی تاریخ کے سیاہ دن کی یاد دلاتا ہے، جب بھارت کی قابض فوجوں نے سری نگر میں داخل ہو کر وادی پر قبضہ کیا۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک المناک باب ہے جو آج تک جاری ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ آٹھ دہائیوں سے کشمیری عوام ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن ان کے حوصلے، ہمت اور استقامت آج بھی قائم ہیں۔ آزادی اور حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ان کا عزم غیر متزلزل ہے۔

انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارت کے غیر قانونی اقدامات میں مزید شدت آئی ہے۔ بھارت کا مقصد جموں و کشمیر کی آبادیاتی ساخت اور سیاسی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، نقل و حرکت پر پابندیاں اور اظہارِ رائے کی قدغنیں مسلسل جاری ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ان غیر قانونی اقدامات کی مذمت کی ہے جو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان کا مؤقف واضح، اصولی اور دوٹوک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کشمیری عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں اور اس عہد کو دہراتے ہیں کہ جب تک انصاف نہیں مل جاتا اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں کیا گیا وعدہ پورا نہیں ہوتا، ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان کے مطابق وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام کو آزادی نصیب ہوگی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا