مقامی حکومتوں کے آئینی تحفظ کے لیے ترمیم ضروری ہے، سپیکر پنجاب اسمبلی

0
291

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے معاملے پر کھل کر بات ہونی چاہیے اور ان کے تحفظ اور بااختیار بنانے کے لیے آئین میں ترمیم کرکے باقاعدہ نیا باب شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات مقررہ وقت پر کرانا لازمی قرار دیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ منگل کے روز پنجاب اسمبلی نے مقامی حکومتوں سے متعلق ایک متفقہ قرارداد منظور کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی و آئینی پیچیدگیوں والی قرارداد کا متفقہ طور پر منظور ہونا ایک بڑی پیش رفت ہے، جبکہ اپوزیشن کے 35 ارکان نے بھی اس کے متن کی تیاری میں حصہ لیا۔

ملک احمد خان نے کہا کہ مقامی حکومتوں کا ایک طویل ریکارڈ موجود ہے اور اب تک اس حوالے سے درجن کے قریب قوانین بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاہے کوئی بھی حکومت ہو، مقامی حکومتوں کے انتخابات کا شیڈول طے ہونا چاہیے اور ان کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آئین صوبوں کو مقامی حکومتیں قائم کرنے کا پابند کرتا ہے، جبکہ اٹھارویں ترمیم نے بھی کئی مسائل حل کیے، مگر کچھ چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئین میں ایسی ترمیم کی جائے جو لوکل گورنمنٹ کو واضح اور مستقل تحفظ دے۔

سپیکر کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلی آئین میں تبدیلی نہیں کر سکتی اور یہ اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات مقررہ مدت میں کرانا لازم قرار دیا جائے تاکہ کوئی حکومت سیاسی سہولت کے لیے مقامی حکومتوں کی مدت کم نہ کرسکے۔

ملک احمد خان کے مطابق پنجاب کی 77 سالہ تاریخ میں 50 سال ایسے گزرے ہیں جن میں مقامی حکومتیں موجود نہیں تھیں، جو کہ ایک تشویشناک حقیقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتیں جتنی زیادہ فعال اور بااختیار ہوں گی، ریاست اور شہری کے درمیان سوشل کنٹریکٹ اتنا ہی مضبوط ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر مقامی حکومت ٹیکس لے تو شہری کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ اسی کے علاقے پر خرچ ہوگا، جبکہ متوسط طبقے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ دینا انتہائی ضروری ہے۔

سپیکر پنجاب اسمبلی نے زور دیا کہ پارلیمان اگر 27ویں ترمیم پر غور کر رہی ہے تو اس میں شہری و ریاست کے معاہدے کو مضبوط بنانے والی دفعات شامل کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑے تو آل پارٹیز کانفرنس بھی فوراً بلائی جائے تاکہ معاملے پر قومی اتفاق رائے قائم ہوسکے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا