راولپنڈی میں لاہور ہائی کورٹ کے بینچ میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی رٹ پٹیشن پر سماعت ہوئی، جس میں وہ اپنے وکیل سردار عبدالرازق خان ایڈووکیٹ کے ہمراہ پیش ہوئے۔
وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ شیخ رشید کا نام پہلے ای سی ایل سے نکالا جا چکا تھا، لیکن اب ان کا نام پی این آئی ایل اور پاسپورٹ کنٹرول میں ڈال دیا گیا ہے۔ آئین کے تحت ہر شہری کو بیرون ملک جانے اور آزادانہ نقل و حرکت کا بنیادی حق حاصل ہے۔
عدالت میں ایف آئی اے اور وفاقی حکومت کی جانب سے مؤقف دیا گیا کہ شیخ رشید کا نام انسداد دہشت گردی عدالت کے حکم کے تحت پاسپورٹ کنٹرول میں شامل کیا گیا ہے۔
جسٹس صداقت علی خان نے ریمارکس دیے کہ شیخ رشید کو عمرے کے لیے جانے دیا جائے، کیونکہ ان کی دعا سے ملک کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے شیخ رشید کی پٹیشن منظور کرتے ہوئے انہیں ون ٹائم عمرہ کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔






