مزار شریف: افغانستان کے ہندوکش خطے میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے نتیجے میں اب تک 20 سے زائد افراد جاں بحق اور 320 زخمی ہو چکے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق زلزلے کے جھٹکے مزار شریف سمیت دیگر شہروں میں بھی محسوس کیے گئے، اور مختلف حادثات میں 150 افراد زخمی ہوئے جبکہ مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق زلزلے کے وقت مزار شریف کے شہری خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے اور کھلے مقامات کی طرف دوڑ گئے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ان کے مکانات گر سکتے ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 6.3 ریکٹر تھی اور گہرائی 28 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ زلزلے کا مرکز صوبہ سمنگان کے ضلع خلم سے تقریباً 22 کلو میٹر جنوب مغرب میں تھا۔
رپورٹس کے مطابق زلزلے کے جھٹکے ترکمانستان، تاجکستان، ازبکستان اور ایران میں بھی محسوس کیے گئے۔
واضح رہے کہ رواں سال 31 اگست کو بھی افغانستان میں 6.0 شدت کے زلزلے میں 2 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 2023 میں 6.3 شدت کے زلزلے اور آفٹر شاکس کے نتیجے میں کم از کم 4 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔






