آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہونگے، بل منظور

0
399

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد آرمی ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ایکٹ ملک کی دفاعی قیادت اور مسلح افواج کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیوں کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مجوزہ آرمی ایکٹ کے مطابق آرمی چیف کو “چیف آف ڈیفنس فورسز” کے نئے عہدے کے طور پر نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ اس نئے نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد آرمی چیف کی مدتِ ملازمت دوبارہ سے شروع ہو جائے گی۔

ایکٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز پاک فوج کے تمام شعبوں کی ری اسٹرکچرنگ (تجدیدِ تشکیل) اور انضمام (integration) کے ذمہ دار ہوں گے۔ وزیراعظم، چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کی تعیناتی کریں گے۔

پاکستان آرمی ایکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان ائیر فورس ایکٹ اور پاکستان نیوی ایکٹ میں بھی ترامیم قومی اسمبلی سے منظور کر لی گئی ہیں۔

نئے قانون کے مطابق، کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کی مدتِ ملازمت تین سال ہوگی، اور انہیں مزید تین سال کے لیے دوبارہ تعینات کیا جا سکے گا۔

آرمی ایکٹ 2025 میں واضح کیا گیا ہے کہ 27 نومبر سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد ملک کی دفاعی قیادت ایک ہی مرکزی عہدے یعنی چیف آف ڈیفنس فورسز کے تحت کام کرے گی۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں بتایا کہ اب آرمی چیف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے، جن کی مدتِ تعیناتی پانچ سال ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی تقرری کریں گے اور ان کی مدتِ ملازمت تقرری کے دن سے شروع ہوگی۔

وزیر قانون کے مطابق نئے قانون میں واضح کر دیا گیا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تقرری کے دن سے پانچ سال کے لیے ہوگا، جب کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

یہ قانون 27ویں آئینی ترمیم کے بعد دفاعی اداروں کے ڈھانچے میں سب سے بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے تحت تینوں مسلح افواج کو ایک متحد کمان کے تحت لانے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا