اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے حکمران جماعت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ محسوس ہوتا ہے کہ ایوان میں ہمارے بیٹھنے کے دن کم رہ گئے ہیں۔
اپنی تقریر میں بیرسٹر گوہر نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کے حالیہ بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ “لگتا ہے میاں نواز شریف کو آزادی مل گئی ہے، پہلی بار انہیں ماسک کے بغیر دیکھا ہے۔” گوہر علی خان نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف کے لیے خصوصی رعایت برتی گئی، ان کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا گیا، انہیں جیل نہیں بھیجا گیا اور بائیو میٹرک تصدیق بھی خصوصی انتظامات کے تحت کی گئی۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے ایوان کو بتایا کہ ملک میں حقیقی جمہوریت موجود نہیں ہے جیسی دنیا کے دیگر جمہوری ممالک میں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “آپ نے اپوزیشن لیڈر کی سیٹ ہم سے چھینی، یہ سیٹ عمر ایوب خان جیت چکے ہیں، مگر ہمارا مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔”
عمران خان سے متعلق نواز شریف کے بیان پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے یہ مؤقف دیر سے اختیار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت کے کارکنوں اور رہنماؤں کے بچوں کو اٹھایا جا رہا ہے اور ایوان میں بیٹھے ان کے نمائندوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ وہ تین کروڑ عوام کی نمائندگی کرتے ہیں اور حکومت نے پی ٹی آئی سے “صرف ایک نہیں بلکہ تمام سیٹوں پر قبضہ کیا ہے”۔ انہوں نے بھارت کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت کے خلاف تھے، ہیں اور رہیں گے۔
پی ٹی آئی چیئرمین کی تقریر کے دوران ایوان میں کئی مواقع پر ماحول کشیدہ رہا جبکہ حکومتی اراکین کی جانب سے بھی جوابی ردعمل سامنے آیا۔






