پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے صوابی کے علاقے ٹوپی میں بس اسٹینڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کو جینے نہیں دیا گیا تو وہ بھی کسی کو جینے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئین اور قانون کے ماننے والے لوگ ہیں اور ریاستی اداروں سے بھی اسی کا تقاضا کرتے ہیں۔
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ انہیں اور ان کی جماعت کو دیوار سے نہ لگایا جائے۔ عمران خان سابق وزیراعظم ہیں، لیکن ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ عمران خان کی اپنے خاندان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے ملاقات تک نہیں کروائی جا رہی، حالانکہ جیل مینوئل کے مطابق قیدیوں کی ملاقاتیں معمول کے مطابق کروائی جاتی ہیں۔
افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسد قیصر نے زور دیا کہ جنگ نہیں بلکہ سفارت کاری کا راستہ اپنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا مزید جنگوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ گزشتہ جنگوں نے عوام کے کاروبار اور زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کار صوبہ چھوڑ کر جا چکے ہیں اور خیبرپختونخوا کے تاجروں کے لیے لاہور اور کراچی کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں جب تک افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت بحال نہیں ہوتی۔
پی ٹی آئی رہنما نے الزام لگایا کہ صوبے کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا ہے اور اب علاقے میں ایک نئی جنگ کی بنیاد رکھی جا رہی ہے، جسے وہ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔






