ناصر باغ پراجیکٹ پر تحفظات، دور نہ کیے تو منصوبہ روک دیا جائے گا: لاہور ہائیکورٹ

0
482

لاہور ہائیکورٹ میں سموگ تدارک کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ناصر باغ پراجیکٹ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ماہرین کے خدشات دور نہ ہوئے تو منصوبہ روک دیا جائے گا۔ سماعت جسٹس شاہد کریم نے کی، جبکہ ممبر جوڈیشل کمیشن، اظہر صدیق ایڈوکیٹ، میاں عرفان اکرم اور دیگر پیش ہوئے۔

جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ شہر میں پہلے ہی بڑے منصوبوں—خصوصاً اورنج لائن—کے بعد نمایاں تبدیلیاں آچکی ہیں، اس لیے مستقبل کی ترقی گرین ڈویلپمنٹ کے تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ناصر باغ جیسے تاریخی مقامات شہر کی شناخت ہیں، لہٰذا ان پر کسی بھی نئے منصوبے کا اثر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ماہرِ تعمیرات رضا علی دادا نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ منصوبہ ناصر باغ کے لیے موزوں نہیں۔ اس پر عدالت نے ڈی جی ایل ڈی اے کو ہدایت کی کہ وہ ماہرین کے ساتھ مشاورت کر کے تمام اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیں۔

سماعت میں بتایا گیا کہ لاہور میں 804 پارکس موجود ہیں۔ عدالت نے پی ایچ اے کو حکم دیا کہ پارکس سے تجاوزات فوری ختم کی جائیں، درختوں اور ہریالی کا ہر صورت تحفظ کیا جائے اور خراب پارکس کو بحال کیا جائے تاکہ شہری بہتر ماحول حاصل کر سکیں۔

عدالت نے تمام شوگر ملز کو واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب کرنے کا بھی حکم دیا۔ مزید بتایا گیا کہ محکمہ ماحولیات نے رولز میں ترمیم کرتے ہوئے بعض منصوبوں—بشمول ناصر باغ—کے لیے این او سی کی شرط ختم کر دی ہے، جس پر عدالت نے تشویش ظاہر کی۔

عدالت نے مختلف محکموں سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا