سانحہ اے پی ایس پشاور کو 11 سال مکمل، معصوم شہداء کی یاد آج بھی تازہ

0
374

سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) پشاور کو 11 سال مکمل ہو گئے۔ 16 دسمبر 2014ء کو آج ہی کے دن سفاک دہشت گردوں نے معصوم بچوں کو نشانہ بنا کر پوری قوم کو غم میں مبتلا کر دیا تھا۔

16 دسمبر 2014ء کو دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ کر کے 132 طلبہ، خواتین اساتذہ اور سٹاف سمیت 147 افراد کو شہید کر دیا۔ سانحہ اے پی ایس کا درد ہر والدین اور پوری قوم کا مشترکہ درد ہے، یہ ایک ایسا المناک واقعہ تھا جس نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

تحقیقات کے مطابق دہشت گردوں کو افغانستان میں تربیت دی گئی تھی اور وہ آتشیں اسلحہ بھی افغانستان سے ساتھ لائے تھے۔ 16 دسمبر کی صبح تقریباً 11 بجے دہشت گرد سکول میں داخل ہوئے اور معصوم بچوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ خوارج نے بچوں کو چن چن کر نشانہ بنایا۔

کچھ ہی دیر میں پاک فوج کے جوان موقع پر پہنچے اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے تمام حملہ آوروں کو جہنم واصل کر دیا۔ اس کربناک دن کے اختتام پر پشاور کی ہر گلی سے جنازے اٹھے، ڈیڑھ سو کے قریب شہادتوں نے پھولوں کے اس شہر کو آہوں اور سسکیوں میں ڈبو دیا۔

یہی دن پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کا نقطۂ آغاز بنا، جس کے بعد ملک بھر میں شدت پسندوں کے خلاف بھرپور آپریشنز شروع کیے گئے۔ دہشت گرد مسلسل افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

آج بھی پاکستان کی افواج اور عوام افغان دہشت گردوں کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ ایک بار پھر پوری قوم کو اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ ان دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ پاک سرزمین کو سب کے لیے محفوظ اور جنت نظیر بنایا جا سکے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا