فلپائن کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ سڈنی کے بونڈائی بیچ حملے میں ملوث ساجد اکرم اور نوید اکرم نے نومبر میں بھارتی اور آسٹریلوی پاسپورٹس پر فلپائن کا سفر کیا تھا۔
فلپائنی امیگریشن حکام کے مطابق 50 سالہ ساجد اکرم بھارتی شہری کے طور پر جبکہ 24 سالہ نوید اکرم آسٹریلوی شہری کے طور پر یکم نومبر کو سڈنی سے فلپائن پہنچے۔ دونوں باپ بیٹے تقریباً ایک ماہ فلپائن میں قیام کے بعد 28 نومبر کو واپس روانہ ہو گئے۔
امیگریشن ترجمان ڈانا سینڈووال نے بتایا کہ ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ جبکہ نوید اکرم نے آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن میں داخلہ لیا تھا اور حملے سے ایک ماہ قبل تک وہ فلپائن میں موجود رہے۔
آسٹریلوی پولیس فلپائن کے اس سفر کے مقصد سے متعلق تحقیقات کر رہی ہے۔ آسٹریلوی حکام اس سے قبل بھی تصدیق کر چکے ہیں کہ دونوں حملہ آور گزشتہ ماہ فلپائن گئے تھے۔ پولیس کے مطابق ساجد اکرم اور نوید اکرم نے فلپائن میں فوجی طرز کی تربیت حاصل کی تھی۔
فلپائن کی وزارت دفاع کے ترجمان آرسینیو اینڈولونگ کے مطابق فلپائنی پولیس بونڈائی بیچ فائرنگ سے قبل دونوں حملہ آوروں کے فلپائن کے دورے سے متعلق تمام پہلوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے۔
ادھر بھارتی میڈیا کے مطابق آسٹریلوی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے سڈنی واقعے پر بھارتی حکومت سے باضابطہ رابطہ کیا اور حملہ آوروں کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔
واضح رہے کہ بھارت اور اسرائیل نے اس واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا شروع کیا اور حملہ آوروں کو پاکستانی قرار دینے کی کوشش کی، تاہم یہ دعویٰ اس وقت غلط ثابت ہو گیا جب آسٹریلیا کے وزیر داخلہ نے تصدیق کی کہ نوید اکرم آسٹریلوی شہری ہے۔
دوسری جانب نوید اکرم کے ایک دوست نے آسٹریلوی میڈیا کو بتایا کہ نوید اکرم کے والد کا تعلق بھارت سے جبکہ والدہ اطالوی شہری ہیں۔
اس سے قبل بھارتی، اسرائیلی اور افغان میڈیا نے ایک پاکستانی شہری شیخ نوید کو بھی غلط طور پر حملہ آور قرار دیا تھا، جس پر شیخ نوید نے ویڈیو بیان جاری کر کے واضح کیا کہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔
فلپائنی حکومت کی جانب سے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کے دورے کی تصدیق کے بعد بھارت اور اسرائیل کے الزامات بے بنیاد ثابت ہو گئے ہیں اور یہ واضح ہو گیا ہے کہ ساجد اکرم اور نوید اکرم کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔






