سڈنی حملہ: بھارت کی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی عالمی سطح پر بے نقاب

0
617

سڈنی میں حالیہ دہشت گردانہ حملے نے بھارت کی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے کردار کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے، جس سے پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی واضح تائید ہوتی ہے۔

اقوامِ عالم اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ بھارت منظم حکمت عملی کے تحت نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں دہشت گرد سرگرمیوں کو فروغ دے رہا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ بھارت ریاستی سطح پر مقبوضہ جموں و کشمیر، پاکستان، کینیڈا، امریکہ اور یورپی ممالک میں بھی دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ سڈنی میں پیش آنے والا سفاکانہ حملہ بھارت کی عالمی سطح پر حمایت یافتہ دہشت گردی کا ایک اور واضح ثبوت ہے۔

عالمی جریدوں میں شائع رپورٹس میں مودی حکومت کے کردار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کے سکیورٹی حکام اور اداروں کے بھارتی خفیہ ایجنسی “را” سے روابط یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایجنسی منظم انداز میں اس حملے میں ملوث رہی۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق سڈنی حملے کا مرکزی کردار ساجد اکرم تھا، جو بھارتی پاسپورٹ پر بین الاقوامی سفر کرتا رہا۔ فلپائن امیگریشن حکام نے تصدیق کی ہے کہ ساجد اکرم اور اس کا بیٹا نوید اکرم حملے سے قبل فلپائن کا سفر کر چکے تھے۔

رپورٹس کے مطابق 50 سالہ ساجد اکرم اور اس کا 24 سالہ بیٹا نوید اکرم آسٹریلوی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق فلپائن امیگریشن نے تصدیق کی ہے کہ ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا جہاں ان کی آخری منزل جنوبی صوبہ ڈاواؤ تھی۔ دونوں افراد یکم نومبر کو سڈنی سے فلپائن پہنچے اور 28 نومبر کو واپس روانہ ہوئے۔

آسٹریلوی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ساجد اکرم اور نوید اکرم نے گزشتہ ماہ جنوبی فلپائن میں عسکری تربیت حاصل کی، جس سے حملے کے پس منظر کی سنگینی مزید واضح ہوئی ہے۔

دوسری جانب بلومبرگ کے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے سڈنی دہشت گردانہ حملے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بھارتی نژاد دہشت گرد اس حملے میں براہِ راست ملوث تھے۔

یاد رہے کہ سڈنی میں پیش آنے والے اس دہشت گردانہ حملے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں، جس نے عالمی سطح پر شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا