امام بارگاہ خودکش حملہ: مبینہ سہولت کاروں سے تعلق کے شبے میں 4 افراد گرفتار

0
12

اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ خودکش حملہ اور مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں جمعہ کی نماز کے دوران ہونے والے دھماکے کے حملہ آور سے مبینہ طور پر قریبی تعلق رکھنے والے 4 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے امام بارگاہ خودکش حملہ آور سے روابط کے شبے میں چار افراد کو گرفتار کر کے تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے میں ملوث سہولت کاروں اور معاونت فراہم کرنے والوں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں انسداد دہشت گردی کے افسران شامل ہیں۔

حکام کے مطابق حملہ آور کے موجودہ اور سابقہ ٹھکانوں سے متعلق موصول ہونے والی معلومات پر کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ قومی شناختی کارڈ میں درج پتے پر بھی چھاپے مارے گئے ہیں، جن کے دوران مزید گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔

قبل ازیں وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ خودکش حملہ آور کی شناخت ہو چکی ہے اور اس سے متعلق تمام اہم معلومات حاصل کر لی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور افغانستان کا شہری نہیں تھا، تاہم اس کے افغانستان کے سفر سے متعلق شواہد سامنے آئے ہیں، اور ممکن ہے کہ 72 گھنٹوں کے اندر تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچا دیا جائے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ اور مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 32 نمازی شہید اور 162 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 29 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا