ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت نافذ کرنے کا فیصلہ ہٹلر کی یہودیوں کے خلاف پالیسیوں سے مختلف نہیں۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اردوان نے کہا کہ اسرائیل میں ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو 1994 میں جنوبی افریقا میں ختم کیے گئے نسلی امتیاز کے نظام سے بھی بدتر ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہٹلر کی ہولناک پالیسیوں اور اسرائیلی پارلیمنٹ کے اس حالیہ فیصلے میں کوئی بنیادی فرق ہے، یا یہ فلسطینی عوام کے خلاف ظلم اور سیاسی قتل کی پالیسیوں کی نئی شکل ہے۔
ترک صدر نے کہا کہ صرف فلسطینیوں پر سزائے موت نافذ کرنا کھلا نسلی امتیاز ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطہ گزشتہ برسوں میں مسلسل مشکلات اور تنازعات کا شکار رہا ہے، جہاں ایک بحران ختم ہونے سے پہلے دوسرا شروع ہو جاتا ہے، اور اس کا سب سے زیادہ بوجھ خواتین اور بچوں پر پڑتا ہے۔
اردوان کے مطابق غزہ میں ہزاروں شہری، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، اسرائیلی کارروائیوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ انہوں نے شام کی طویل خانہ جنگی اور ایران پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تنازعات میں بھی سب سے زیادہ نقصان معصوم شہریوں کو اٹھانا پڑا۔
انہوں نے لبنان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملوں کے باعث لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور بڑی تعداد میں شہری ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔
ترک صدر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں جاری تشدد اور انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے۔






