
فاروق فیصل خان
مذھبی رشتوں کے استسنی کے سوا ریاستوں کے درمیان تعلقات دائمی نہیں مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ برادرانہ اور دوستانہ جیسی اصطلاحات محض دکھاوا ہوتی ہیں۔پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ محض سفارتی روابط کی داستان نہیں بلکہ امیدوں، ضرورتوں، غلط فہمیوں، خوش فہمیوں اور تلخ تجربات کا ایک تسلسل ہے۔ یہ وہ کہانی ہے جس کے ہر موڑ پر پاکستان نے خوش فہمی کی بنیاد پر ہمیشہ دوستی کا ہاتھ بڑھایا، مگر جواب بھی ہمیشہ مفاد کی زبان میں ملا۔
فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اپنی معروف کتاب “فرینڈز ناٹ ماسٹرز “میں ایک اصولی مؤقف پیش کیا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کا رشتہ برابری کی بنیاد پر ہونا چاہیے، جہاں کوئی کسی کا آقا نہ ہو۔ مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ یہ تصور ایک خوش فہمی ہی تھی۔
پاکستان نے امریکہ کا دل جیتنے کے لئے سیٹو آور سینٹو جیسے معاہدوں میں شامل ہو کر امریکہ کا ساتھ دیا، لیکن 1965 کی پاک بھارت جنگ کے موقع پر امریکی پابندیوں نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ اس کے نزدیک دوستی سے زیادہ اہم امریکی مفادات ہیں۔
جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں سویت افغان جنگ نے دونوں ممالک کو ایک بار پھر قریب کر دیا۔ پاکستان فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا، قربانیاں دیں،ملک میں ہیروین اور کلاشنکوف کلچر متعارف ہوا، چند ڈالروں کے عوض ملک کو علاقائی عصبیت اور فرقہ وارانہ اگ میں جھونک دیا گیا، امریکہ نے پاکستان سے مالی و عسکری تعاون کیا، مگر جیسے ہی سوویت یونین کا انخلا ہوا، پریسلر ترامیم کے تحت پابندیاں لگا دی گئیں۔
یہ وہ لمحہ تھا جب دوستی کا پردہ ہٹ گیا اور مفاد کی حقیقت ایک بار پھر سامنے آ گئی۔ پاکستان امریکی تعاون کو دوستانہ امداد تصور کرتا رہا جبکہ امریکہ نے اسے خدمات کا معاوضہ قرار دیدیا۔
پھر پرویز مشرف کا دور آیا، وار آن ٹیرر نے ایک نئی شراکت داری کو جنم دیا۔ پاکستان نے نصف شب ٹیلی فون کال پر موصول ہونے والی ایک دھمکی پر امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا، چند ڈالروں کے عوض اپنا ہی ملک جنگ میں جھونک دیا، بارڈر پار کی جنگ اپنی سرحدوں میں لے ایا۔
مگر اس کے بدلے میں ڈرون حملے، “ڈو مور” کے تقاضے اور خودمختاری پر سوالات سامنے آئے۔ یہ تعلق ایک بار پھر برابری کی سطح پر استوار نہ ہو سکا الٹا دی گئ امداد کا حساب بھی مانگا اور آڈٹ بھی کیا ۔
پاکستان سے بار بار دھوکا کیوں کیا گیا؟کیونکہ پاکستان معاشی طور پر ایک کمزور ملک ہے اور اس کے ماتھے پر شکست کا دھبہ تھا۔ایٹمی قوت ہونے کے باوجود اس سے کمتر سلوک روا رکھا گیا۔اسے ایک غیر ذمہ دار ریاست کے طعنے دیئے گئے۔ ایسے اشارے کرائے گئے کہ اس کے ایتم بم اور ایٹمی صلاحیت چھین لی جائے گی۔دنیا کی واحد سپر پاور نے پس پردہ رہ کر اپنے اتحادیوں اور زہر اثر ملکوں کو ہم سے دور کر کے سفارتی طور پر تنہا کرنے کی سازش کی۔
پاکستان کے دشمن بھارت کی غیر ضروری پذیرائی کی گئ۔لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا،گذشتہ برس بھارت ایک مرتبہ پھر جارحیت کا مرتکب ہوا لیکن اب شکست اس کا مقدر بنی۔ پاکستان نے واضح برتری ہوتے ہوئے ایک ذمہ دار ریاست کا ثبوت دیا اور جنگ کو نہ پھیلایا۔
شکست کا دھبہ بھی مٹ گیا اور اقوام عالم میں پذیرائی بھی ملی۔امریکہ نے ایک مرتبہ پھر خطے کے حالات اور اپنے مفادات کو دیکھتے ہوئے لاڈ پیار شروع کر دیا۔صدر ٹرمپ نے متعدد مرتبہ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور مسلح افواج کے کمانڈر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں عظیم وزیراعظم اور جرنیل قرار دیا۔
ٹرمپ نے سپر پاور ہونے کے نشہ میں ایران پر جنگ مسلط کر دی،ظاہری طور پر برتری ہونے کے باوجود مکمل فتح حاصل نہ کر سکا اور امریکہ کا واحد سپر پاور ہونے کا دعوٰی لڑکھڑا گیا۔قسمت کا کھیل دیکھیں کہ ایک وقت وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف پاک بھارت جنگ رکوانے کے لئے چھٹی والے روز امریکہ گئے اور اب امریکہ اپنی مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کے لئے اسلام آباد میں بچھائی گئ مذاکرات کی میز پر بیٹھا ہے۔
پاک امریکہ تعلقات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ فوج کی قیادت اور فوجی حکمرانوں سے واسطہ رکھا، اب بھی زیادہ تر رابطہ فیلڈ مارشل سے ہی ہے ۔ سول قیادت کو تو سہانے مستقبل کے ہی خواب دکھائے جاتے ہیں۔
اسلام اباد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے لئے دعا گو اور پرامید ہوتے ہوئے سوال اٹھتا ہے کہ مستقبل میں پاک امریکہ تعلقات کی بنیاد کیا ہو؟ تاریخ اور تجربات کا نچوڑ یہ ہے کہ پاک–امریکہ تعلقات جذباتی وابستگی پر قائم ہوں اور نہ یکطرفہ مفادات پر۔ یہ تعلقات اب “فرینڈز ناٹ ماسٹرز” کی خوش فہمی پر استوار نہ ہوں اور نہ ” ماسٹر ناٹ فرینڈز” قسم کی بالادستی کو قبول کیا جائے۔
اصل بنیاد برابری، خودداری ، باہمی احترام اور دوطرفہ مفاد ہو۔نہ کوئی گریبان پر ہاتھ ڈالے، نہ کوئی گھٹنے چھوئے۔ نہ دھمکی ہو، نہ مرعوبیت۔ بات ہو تو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر، تعلق ہو تو عزت کے ساتھ۔پاکستان کے ماتھے پر اب شکست کا کوئی داغ نہیں، کسی قسم کی سفارتی تنہائی بھی نہیں۔
دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچانے کی کوششوں کے سبب ایک ذمہ دار ملک قرار دیا جا رہا ہے اور سہارا دینے کے لئے دوست بھی موجود ہیں۔ جب دونوں ملک ایٹمی طاقت رکھتے ہیں تو دولت کم یا زیادہ ہونے کی کوئی اہمیت نہیں رہتی، بلکہ وقار، خودمختاری اور برابری کی ہوتی ہے۔ یہی وہ سبق ہے جو تاریخ نے بار بار سکھایا، اور جسے اب نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔






