آزاد کشمیر کے انتخابات اور حالاتِ حاضرہ

0
644

تحریر: جاوید اکرم ملک

آزاد کشمیر کے انتخابات ہمیشہ محض اقتدار کی تبدیلی کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ یہ خطے کے عوام کی امنگوں، مسائل اور مستقبل کی سمت کا تعین کرنے کا ایک اہم موقع بھی ہوتے ہیں۔ ہر انتخابی موسم میں سیاسی جماعتیں عوام سے ترقی، خوشحالی، روزگار، بہتر تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور شفاف حکمرانی کے وعدے کرتی ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ انتخابات کے بعد ان وعدوں پر کس حد تک عمل ہوتا ہے۔

آزاد کشمیر قدرتی حسن سے مالا مال خطہ ہے، لیکن یہاں کے عوام آج بھی بے روزگاری، مہنگائی، بنیادی سہولیات کی کمی، سڑکوں کی خراب حالت، صحت کی ناکافی سہولیات اور تعلیمی مسائل جیسے چیلنجز سے نبرد آزما ہیں۔ نوجوان نسل بہتر مستقبل کی تلاش میں بڑے شہروں یا بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہے۔ اگرچہ مختلف حکومتوں نے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا، لیکن عوام کی بڑی تعداد اب بھی محسوس کرتی ہے کہ ترقی کی رفتار ان کی توقعات کے مطابق نہیں۔

انتخابات کے دوران سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ جلسے، جلوس، منشور اور وعدے عوام کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ ایک جمہوری معاشرے میں یہ مثبت عمل ہے، مگر اس کے ساتھ ضروری ہے کہ انتخابی مہم برداشت، شائستگی اور عوامی مسائل کے حل پر مبنی ہو۔ ذاتی الزامات، نفرت انگیز بیانات اور غیر ضروری سیاسی کشیدگی جمہوریت کو کمزور کرتی ہے۔

آزاد کشمیر کی سیاست کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں کے فیصلوں کا اثر صرف مقامی آبادی تک محدود نہیں رہتا بلکہ مسئلۂ کشمیر کی مجموعی سیاست سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ اسی لیے یہاں ہونے والے انتخابات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انتخابات کا شفاف، آزاد اور منصفانہ ہونا عوامی اعتماد کے لیے نہایت ضروری ہے۔

موجودہ حالات میں عوام کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ منتخب نمائندے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوامی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ بجلی، پانی، صحت، تعلیم، سیاحت، روزگار اور کاروبار کے فروغ جیسے شعبوں میں ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ قدرتی وسائل سے مالا مال آزاد کشمیر میں سیاحت، زراعت اور پن بجلی کے شعبوں میں بے پناہ امکانات موجود ہیں، جن سے فائدہ اٹھا کر معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ عوام اور نمائندوں کے درمیان اعتماد، جوابدہی اور مسلسل رابطے کا رشتہ ہے۔ اگر منتخب قیادت اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرے اور عوام بھی باشعور انداز میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں تو آزاد کشمیر ترقی، استحکام اور خوشحالی کی نئی منزلیں طے کر سکتا ہے۔

آنے والے انتخابات بھی اسی تناظر میں اہم ہیں۔ انتخابی شیڈول کے مطابق آزاد کشمیر میں عام انتخابات 2026 کے دوران منعقد کیے جا رہے ہیں، اور ان کی شفافیت اور پُرامن انعقاد پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ آزاد کشمیر کے روشن مستقبل کا انحصار صرف حکومتوں پر نہیں بلکہ عوام، سیاسی جماعتوں، اداروں اور نوجوان نسل کی مشترکہ ذمہ داری پر بھی ہے۔ اگر سیاست کو خدمت، دیانت اور عوامی فلاح کا ذریعہ بنایا جائے تو وہ دن دور نہیں جب آزاد کشمیر ترقی، خوشحالی اور استحکام کی ایک مثالی مثال بن جائے گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا