جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ فارم 47 کے ذریعے مسلط کردہ حکومت کو اب جھکنا پڑے گا، 26 جولائی کو شروع ہونے والا دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہمیں ہمارا حق نہیں مل جاتا۔
راولپنڈی میں تاجر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت نے بے تحاشا ٹیکس عائد کرکے تاجروں کا بھی گلا گھونٹ دیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ جاگیردار طبقہ حکومت کی صورت میں مسلط ہوکر عوام کا خون نچوڑ رہا ہے، بڑے جاگیرداروں کو ہزاروں ایکڑ زمینیں انگریز نے وفاداری کے نتیجے میں عطا کی تھیں، یہ صرف 4 فیصد ٹیکس کیوں دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ 25 کروڑ لوگ اپنی طاقت کو پہچانیں، باہر نکلیں گے تو ظلم سے نجات مل جائے گی، ضروری ہے کہ مراعات یافتہ طبقے سے مراعات چھینی جائیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ جاگیردار طبقہ اپنے آپ کو ٹیکس نیٹ سے نکال کر غریبوں پر ٹیکس مسلط کررہا ہے۔ ججز، جرنیل اور مراعات یافتہ بیوروکریٹس بتائیں قوم کے ٹیکس سے مراعات کیوں لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگر ہم ٹیکس دیتے ہیں تو پھر تعلیم، صحت اور امن و امان ہمارا آئینی حق ہے، جو ملنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ یہ ہمیں ہمارا حق دینے کے بجائے سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کرتے ہیں، ساری پارٹیاں اپنی اپنی باری کے انتظار میں ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ نوجوان باہر نکلیں اور اپنا حق لیں، ہم حکمرانوں کی طرح عوام کے ضمیر کا سودا نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ اپنے بچوں کی خاطر باہر نکلیں، اور جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔






