اسلام آباد : پیپلز پارٹی نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں سے واک آؤٹ کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی قیادت کے خلاف بیان بازی پر معافی مانگے۔
سینیٹ اجلاس کے دوران شیریں رحمان نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی امداد کے بجائے حکومتی اتحادی ایک دوسرے پر تنقید کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے صرف یہ تجویز دی تھی کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے متاثرین کی مدد کی جائے لیکن اس پر غیر مناسب باتیں کی گئیں۔ شیریں رحمان کے خطاب کے بعد پیپلز پارٹی کے سینیٹرز اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اگر کسی کے الفاظ سے دل آزاری ہوئی ہے تو وہ افسوسناک ہے اور صدر آصف زرداری صلح جوئی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ تاہم ایوان میں پیپلز پارٹی، ن لیگ اور پی ٹی آئی کے سینیٹرز کے درمیان شدید نوک جھونک بھی ہوئی۔ بعد ازاں پی ٹی آئی نے بھی احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا، کورم کی نشاندہی کے بعد سینیٹ کا اجلاس 9 اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں راجہ پرویز اشرف نے ن لیگ کے بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی صوبائی تعصب کی سیاست نہیں کرتی۔ تاہم پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی سے بھی واک آؤٹ کر دیا اور کورم کی نشاندہی کی۔ پی ٹی آئی نے بھی کورم کی نشاندہی کر دی جس پر اجلاس جمعرات 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔






