پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے اجلاس سپیکر بابر سلیم سواتی کی صدارت میں شروع ہو گیا، تاہم اپوزیشن کے اراکین نے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا۔ علی امین گنڈاپور ایوان میں پہنچے، جہاں حکومتی اراکین نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔
علی امین گنڈاپور نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کو پیشگی مبارکباد دیتے ہیں اور انہوں نے ملک میں قانون کی بالادستی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تب کامیاب ہوتی ہے جب وہ مضبوط ہو اور اپوزیشن کے حلقوں کو فنڈز فراہم کرنا بھی ان کی اولین ترجیحات میں شامل رہا۔
دوسری جانب، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ ابھی منظور نہیں ہوا، اس لیے ایک وزیر اعلیٰ کے ہوتے ہوئے دوسرے کا انتخاب غیر قانونی ہے اور وہ اس عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔
پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی سمیت چار امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ جے یو آئی، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے امیدوار بھی کاغذات نامزدگی جمع کروا چکے ہیں۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کی تعداد 92 ہے، جبکہ اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 53 ہے، اور وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے لیے 73 ووٹ درکار ہیں۔






