اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور آئندہ جمعے کو ملک بھر میں یومِ سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے اور عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہیں۔ اعلامیے کے مطابق عدلیہ کو انتظامیہ کے زیر اثر لانے کی کوشش ناقابلِ قبول ہے اور ان ترامیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفوں کو سراہتے ہوئے آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اتحاد نے اعلان کیا کہ غیر آئینی ترامیم کے خلاف جمہوری مزاحمت جاری رہے گی۔
اپوزیشن اتحاد نے خیبر پختونخوا امن جرگہ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں 27ویں ترمیم کے خلاف قرارداد پیش کی جائے گی۔
تحریک نے پنجاب اسمبلی سے لاہور ہائی کورٹ تک مارچ کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ لاہور میں وکلا کے احتجاج میں بھرپور شرکت کی جائے گی۔ جمعے کو ملک گیر سطح پر یومِ سیاہ منایا جائے گا۔
اعلامیے میں عمران خان، بشریٰ بی بی، پی ٹی آئی قیادت اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اراکین اسمبلی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پیر کو قومی اسمبلی سے سپریم کورٹ تک واک کریں۔






