وفاقی کابینہ کا اجلاس: اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر ملتوی، نئی قانون سازی کی منظوری

0
507

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا مختصر اجلاس منعقد ہوا، جس میں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 3 دسمبر اور 30 دسمبر کے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق نئی قانون سازی پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر چیف کمشنر اسلام آباد نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے وفاقی کابینہ کو بریفنگ دی، جس کے بعد کابینہ نے بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر ملتوی کرنے کی منظوری دے دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ نے اسلام آباد میں پنجاب طرز کے بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے قانون سازی کی بھی منظوری دی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے لیے 15 فروری کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، جبکہ 16 سے 19 فروری تک نتائج مرتب کیے جانے تھے۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کابینہ اراکین کو نئے سال کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی نجکاری کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڈنگ کا عمل شفاف رہا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی خسارے میں جانے والے ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری کا عزم کیا تھا، اور پی آئی اے کی نجکاری اس سمت ایک اہم سنگ میل ہے۔ خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری حکومت کے معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملکی جی ڈی پی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، جو خوش آئند ہے۔ وزیراعظم کے مطابق حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ کے خطرے سے نکال کر معاشی استحکام کی جانب گامزن کیا۔

وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے حالیہ ملاقاتوں کو دوطرفہ تعلقات اور باہمی مشاورت کے حوالے سے مفید قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک روز قبل سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور تعاون کو مزید وسعت دینے پر بات چیت ہوئی۔

وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹیو کیسز کے 30 دسمبر 2025 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کر دی، جن میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) آرڈیننس 2025 سے متعلق کارروائی شامل ہے۔ اسی طرح 3 دسمبر 2025 کے اجلاس کے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔

کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 26 اگست 2025 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی منظوری دی، جن میں آف گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹس) لیوی کے تحت بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے اور اس ضمن میں حکمت عملی ترتیب دینے کا فیصلہ شامل ہے۔

اس کے علاوہ وفاقی کابینہ نے پٹرولیم ڈویژن کی سفارش پر تھرڈ پارٹی کے ذریعے آف گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس کی فروخت سے متعلق آف گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹس) لیوی ایکٹ 2025 میں ترمیم کے لیے صدارتی آرڈیننس کے اجرا کی منظوری بھی دے دی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا