اسلام آباد امام بارگاہ دھماکے میں ملوث دہشت گرد اور ان کے سہولت کار

0
674

اسلام آباد کے تھانہ شہزاد ٹاؤن کے علاقے ترلائی کلاں میں امام بارگاہ میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے ماسٹر مائنڈ اور ہینڈلرز کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جن کے نتیجے میں اہم پیش رفت اور متعدد گرفتاریاں سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق دہشت گرد اور اس کے ساتھیوں کا تعلق پشاور اور دیگر علاقوں سے بتایا جا رہا ہے۔ واقعے کی تفصیلات کے مطابق غازی شاہ امام روڈ پر واقع امام بارگاہ و مسجد کے گیٹ پر سیکیورٹی گارڈز نے مشکوک شخص کو روکا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نمازِ جمعہ کے دوران تقریباً ایک بج کر 38 منٹ پر دوڑتا ہوا مسجد میں داخل ہوا اور چند سیکنڈ بعد دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں شدید بھگدڑ مچ گئی اور جائے وقوعہ پر خون اور انسانی اعضا بکھر گئے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور متعلقہ اداروں کو ذمہ داروں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی ہدایت کی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مبینہ حملہ آور کے اعضا تحویل میں لے کر فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیے ہیں۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پمز اسپتال جبکہ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے پولی کلینک اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ متاثرین کے معاملے میں اسلام آباد انتظامیہ سے مکمل تعاون کیا جائے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے امام بارگاہ پر خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ وزیراعظم نے وزیر داخلہ کو واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے فوری تعین کی ہدایت کی۔

واقعے کی عالمی سطح پر بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔ روس، امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، ایران، سعودی عرب، ترکی اور دیگر اسلامی ممالک نے پاکستان سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے دہشت گردی کے اس واقعے کو انسانیت اور اسلامی اقدار کے خلاف قرار دیا۔ غیر ملکی رہنماؤں نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ تعاون کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے افغانستان میں تربیت حاصل کی تھی اور اعلیٰ حکام اس حملے کے پس پردہ پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔ حکومتی شخصیات کا کہنا ہے کہ جلد حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خلاف مزید سخت کارروائیاں کی جائیں گی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا