تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان جنہیں جیل میں تقرباً ایک برس ہو چکا ہے اس عرصے میں جہاں کئی سیاسی رہنما تحریک انصاف کو خیرباد کہہ گئے وہیں کئی اہم رہنما 9 مئی کے واقعے کے بعد گرفتار ہوئے اور ایک نئی قیادت ابھر کر سامنے آئی۔
متعدد مقدمات میں قانونی ریلیف حاصل کرنے کے باوجود عمران خان جیل سے باہر نہ آ سکے اور اس دوران تحریک انصاف میں اختلافات بھی کھل کر سامنے آئے۔ ان تمام واقعات کے بعد خیال کیا جا رہا تھا کہ عمران خان کی مقبولیت میں کمی واقع ہو گی لیکن ایسا نہ ہوا. انہوں نے جو بیانیہ بھی بنایا وہ عوامی پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا اور وہ اس وقت بھی پاکستان کے مقبول ترین رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔
عمران خان کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ گوگل میپ پر بھی اڈیالہ جیل عمران خان کے نام سے منسوب کر دی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کے حامی صارفین گوگل کے اس اقدام پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں صحافی صابر شاکر نے لکھا کہ گوگل نے اڈیالہ جیل کو عمران خان کی لوکیشن سے منسوب کردیا آپ بھی سرچ کرکے عمران خان کے سیل کو دیکھ سکتے ہیں۔
سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے گوگل میپ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ عمران خان کا ڈر ہے لیکن عمران خان تو ہو گا۔
صحافی حسن ایوب خان نے لکھا کہ گوگل کو بھی بخوبی علم ہو گیا ہے کہ عمران خان کو ایک طویل مدت اسی اڈیالہ جیل میں ہی رہنا ہے اس لیے اڈیالہ جیل کو عمران خان سے منسوب کرنا بلکل درست ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ یہ عمران خان کو مائنس کرنے چلے تھے لیکن عمران خان تو ہو گا، اب تو گوگل نے بھی اڈیالہ جیل کی لوکیشن کو عمران خان کے نام سے منسوب کر دیا ہے۔






