لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے صوبے بھر میں سالہا سال سے زیر التواء مقدمات کے جلد فیصلے یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ چیف جسٹس نے ماتحت عدالتوں میں ماڈل کورٹس کے قیام اور ان کے لیے ججز کی نامزدگی کی منظوری دے دی ہے تاکہ پرانے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جا سکے۔
پنجاب کی ماتحت عدالتوں، خصوصاً لاہور اور ملتان میں 40 سال سے زائد پرانے کیسز موجود ہیں۔ ان مقدمات پر فوری کارروائی کے لیے ایڈیشنل سیشن ججز، سینیئر سول ججز اور مجسٹریٹس کو نامزد کرتے ہوئے انہیں یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ جلد از جلد فیصلے سنائے جائیں۔ یکم ستمبر سے صوبے بھر میں ججز پرانے کیسز کی باقاعدہ سماعت کا آغاز کریں گے۔
چیف جسٹس نے پہلی بار تاریخ میں سول ماڈل کورٹس قائم کرنے کی بھی منظوری دی ہے تاکہ انصاف کے عمل کو مزید تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ لاہور ہائیکورٹ میں ٹیکس اور کمرشل کیسز کے لیے خصوصی بینچز بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ کاروباری اور مالیاتی تنازعات کے فیصلے جلد اور مؤثر انداز میں ہو سکیں۔






