اسلام آباد: سابق ائیرچیف سہیل امان نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روکا، اور اس کا کریڈٹ انہیں جاتا ہے۔
سہیل امان نے ‘معرکہ حق اور اس سے آگے’ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی افواج ہر وقت تیار ہیں، اور اگر پاکستان پر آئندہ بھی حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کا اتحاد دشمن کو شکست دیتا ہے اور معرکہ حق میں نئی مثال قائم کی گئی۔
سابق ائیرچیف نے کہا کہ بھارت نے جنگ سے اپنا نام گرایا اور نقصان اٹھایا، اور اس جنگ میں اسرائیل کے سوا کوئی بھارت کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایٹمی طاقت کا مقصد جنگ روکنا ہے، اور بھارت کے آپریشن سندور پر دنیا سوال اٹھا رہی ہے۔ پاکستان امن اور تجارت کے ذریعے خطے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
سہیل امان نے یہ بھی کہا کہ بھارت کا بیانیہ تھا کہ پاکستان نے چینی اسلحہ اور فوج استعمال کی، جبکہ وہاں کوئی چینی فوجی موجود نہیں تھا۔ بھارت کے پاس اسرائیلی فوج اور اسلحہ ضرور تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، مگر جنگ کے لیے ہر وقت تیار رہنا تربیت کا حصہ ہے۔
سابق ائیرچیف نے خطے کے حوالے سے کہا کہ امریکی صدر یوکرین اور روس میں جنگ بندی چاہتے ہیں، فلسطین پر توجہ دے رہے ہیں، اور پاکستان، چین اور افغانستان نے ریل پروجیکٹ کی منظوری دی۔ افغانستان سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ میں شامل ہونا چاہتا ہے، جبکہ بھارت پیچھے ہے۔






