امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ ناروے کے 2 ٹریلین ڈالر کے ویلتھ فنڈ کو امریکی تعمیراتی سازوسامان کے گروپ کیٹرپلر سے تقسیم کرنے پر “بہت پریشان” ہے، انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اس معاملے پر ناروے کی حکومت کے ساتھ براہ راست بات چیت کر رہا ہے۔ناروے کا 2 ٹریلین ڈالر کا ویلتھ فنڈ، جو دنیا کا سب سے بڑا اور ناروے کا مرکزی بینک چلاتا ہے، نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس نے غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی حکام کی جانب سے کمپنی کی صنوعات کے استعمال پر اخلاقی بنیادوں پر کیٹرپیلر سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
فنڈ کے اخلاقیات پر نظر رکھنے والے ادارے نے کہا ہے کہ اس کے جائزے کے مطابق کیٹرپیلر کی تیار کردہ بلڈوزر جیسی مصنوعات کو اسرائیلی حکام بین الاقوامی انسانی قوانین کی وسیع اور منظم خلاف ورزیوں کے ارتکاب کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جیسے کہ ‘فلسطینی املاک کو بڑے پیمانے پر غیر قانونی طور پر تباہ کرنا’۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘ہم ناروے کے خودمختار دولت فنڈ کے اس فیصلے سے بہت پریشان ہیں،
جو بظاہر کیٹرپلر اور اسرائیلی حکومت کے خلاف غیر قانونی دعووں پر مبنی معلوم ہوتا ہے، نارویجن فنڈ، جو تیل اور گیس کی وسیع آمدنی سے تعمیر کیا گیا ہے، تقریبا 8،400 کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرتا ہے، جو عالمی سطح پر تمام فہرست شدہ اسٹاک کا 1.5 فیصد ہے.ٹرمپ کے اتحادی اور ریپبلکن امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے تجویز دی ہے کہ واشنگٹن کو جوابی کارروائی کے طور پر محصولات اور ویزا منسوخی عائد کرنی چاہیے۔





