فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے کہ حماس نے غزہ امن منصوبے پر مثبت ردعمل دیا ہے اور اس پر بات چیت کا آغاز کیا جائے گا۔
فلسطینی صدارت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ پیش رفت یرغمالیوں کی رہائی اور ایک تعمیری راستے کی طرف پیش قدمی کی نشاندہی کرتی ہے۔ بیان میں ٹرمپ اور عرب و مسلم ممالک کی ان کوششوں پر بھی شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے کردار ادا کیا۔
بیان کے مطابق اب سب سے اہم چیز مکمل جنگ بندی، تمام یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی، اقوام متحدہ کے اداروں کے ذریعے انسانی امداد کی فوری فراہمی، جبری نقل مکانی اور الحاق کی روک تھام اور تعمیر نو کے عمل کا آغاز ہے۔
مزید کہا گیا کہ غزہ کی پٹی فلسطینی ریاست کا حصہ ہے اور مغربی کنارے کے ساتھ اس کا تعلق فلسطینی قوانین اور اداروں کے ذریعے قائم کیا جائے گا، جس کے لیے فلسطینی انتظامی کمیٹی اور متحدہ سکیورٹی فورسز تشکیل دی جائیں گی۔
صدر محمود عباس نے اعادہ کیا کہ وہ تمام متعلقہ ثالثوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے کام کرتے رہیں گے تاکہ فلسطین پر اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ہو اور مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنایا جا سکے۔






