غزہ کی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی بمباری اور حملوں کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 66 فلسطینی شہید ہو گئے، جس کے بعد 7 اکتوبر 2023 سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہزار 74 تک پہنچ گئی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق اس اعداد و شمار میں عام شہریوں اور جنگجوؤں میں کوئی تفریق شامل نہیں ہے۔
ادھر اسرائیلی فوج نے غزہ میں حالیہ دنوں کے حملوں پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ اس خاموشی نے عالمی سطح پر مزید سوالات کو جنم دیا ہے کہ اسرائیل کے تازہ حملوں کے اثرات کتنے بڑے پیمانے پر ہوئے ہیں۔
وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری بمباری کے ساتھ ساتھ بھوک اور غذائی قلت بھی لوگوں کی زندگیاں نگل رہی ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق غذائی قلت سے مزید دو فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں، جس سے اس وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد 459 ہو گئی ہے۔ ان میں 154 بچے بھی شامل ہیں جو مناسب خوراک نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
اسرائیل نے بڑے پیمانے پر قحط کے دعوؤں کو متنازع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال اتنی سنگین نہیں جتنی بیان کی جا رہی ہے، تاہم اس نے یہ تسلیم کیا کہ بعض علاقوں میں “خوراک تک رسائی کے مسائل موجود ہیں”۔
غزہ کی تازہ صورتحال نے عالمی سطح پر انسانی بحران کو مزید اجاگر کر دیا ہے اور بین الاقوامی ادارے ایک بار پھر دباؤ میں ہیں کہ فوری جنگ بندی اور امدادی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔






