اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے عمر عبداللہ کی بازیابی کے لیے ان کی اہلیہ زینب زعیم کی دائر کردہ درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ لاپتہ شہری کی اہلیہ کو حکومت کی جانب سے امدادی رقم فراہم کر دی گئی ہے۔
عمر عبداللہ کے والد خالد عباسی ایڈووکیٹ نے عدالت کو اس پیش رفت سے آگاہ کیا جبکہ وزارت دفاع کے نمائندے بھی عدالت میں پیش ہوئے اور ان کیمرہ بریفنگ دی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی لاپتہ شہری سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔
درخواست گزار کے وکیل نے یاد دہانی کرائی کہ 2018 میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس مقدمے میں اس وقت کے آئی جی، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری دفاع، ایس ایس پی اور تفتیشی افسر پر جرمانے عائد کیے تھے لیکن آج تک ان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
وکیل کے مطابق 2017 میں اسی عدالت میں تفتیشی افسر نے تسلیم کیا تھا کہ عمر عبداللہ جبری گمشدگی کا شکار ہوا ہے۔ اس پر عدالت نے سخت ریمارکس دیے اور سوال اٹھایا کہ اُس وقت کے آئی جی اور دیگر افسران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟
جسٹس محسن اختر کیانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم تھا کہ ملوث افسران کی تنخواہوں سے کٹوتی کی جائے، لیکن بظاہر اب بھی وہ تنخواہیں اور پنشن وصول کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کو عدالتی حکم نامے میں شامل کیا جائے گا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔






