ایران کے کردستان صوبے میں مسلح جھڑپ، پاسدارانِ انقلاب کے دو اہلکار ہلاک
ایران کے مغربی صوبے کردستان میں مسلح جھڑپ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے دو اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ واقعہ حزب اللہ اسکوائر کے قریب سیکیورٹی چیک پوسٹ پر دستی بم پھینکنے کے بعد پیش آیا۔ جھڑپ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔
حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔ ہلاک ہونے والے اہلکار علی رضا ولی زادہ اور ایوب شیری تھے، جبکہ زخمی اہلکاروں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز حملہ آوروں کی تلاش میں ہیں۔
کردستان اور سیستان بلوچستان میں نسلی اقلیتیں اپنی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کرتی رہی ہیں اور ایران نے ان حملوں کو “غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی” قرار دیا ہے۔






