تین اسرائیلی حکام نے سی این این کو بتایا ہے کہ حماس غزہ میں موجود تمام مقتول یرغمالیوں کی لاشیں تلاش کرنے کے قابل نہیں ہے۔ حکام کے مطابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اس بات سے آگاہ ہیں کہ یہ معاملہ مہینوں سے جاری ہے۔
سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے مشرق وسطی کے اسسٹنٹ سکریٹری آف اسٹیٹ باربرا لیف نے کہا شروع سے ہی معاملہ یہی رہا ہے کہ حماس تمام یرغمالیوں پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتی۔ امکان زیادہ ہے کہ وہ صرف زندہ یرغمالیوں کو بازیافت کر سکتی ہے
اہلکاروں نے بتایا کہ 7 سے 9 لاشیں بازیاب نہیں کی جا سکتیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 10 سے 15 کے درمیان ہو سکتی ہے۔
سی این این کے مطابق یہ تخمینے اسرائیلی انٹیلی جنس اور مصر میں جاری بات چیت کی معلومات پر مبنی ہیں، تاہم درست تعداد معلوم کرنا ممکن نہیں۔
حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو مقتول یرغمالیوں کی واپسی پر کس طرح کا ردعمل ظاہر کریں گے، اس بارے میں مختلف اندازے موجود ہیں، اور بعض اہلکاروں کے مطابق یہ مذاکرات کو پٹڑی سے اتارنے کے بہانے کے طور پر بھی استعمال ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل ٹائمز آف اسرائیل نے اطلاع دی تھی کہ حماس نے ماضی میں ثالثوں کو بتایا تھا کہ وہ کچھ مقتول یرغمالیوں کی لاشوں کی موجودگی کے بارے میں نہیں جانتی۔






