ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پشاور پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے سامنے صرف تین آپشن ہیں — خارجی عناصر کو ریاست کے حوالے کر دیں، ریاست کے ساتھ مل کر اُن کے خلاف لڑیں، یا پاک فوج کے آپریشن کے لیے تیار رہیں۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ سہولت کاروں کو انجام تک پہنچا دیا جائے گا اور دہشت گردوں و اُن کے سہولت کاروں کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی، اس مقصد کے لیے عوامی تعاون بھی درکار ہے۔
اُنہوں نے نشاندہی کی کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی میں اضافہ کا سبب سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے اور نیشنل ایکشن پلان کے نظرِثانی شدہ اقدامات پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
لیفٹیننٹ جنرل نے یہ بھی کہا کہ پولیس کا بنیادی کام ہونے کے باوجود بعض معاملات میں فوج کو اس ذمہ داری کو سنبھالنا پڑا، اور سی ٹی ڈی کی محدود تعداد (تقریباً 3200) کے باعث نتائج متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ خارجیوں اور اُن کے سہولت کاروں کے ان نقوش کو بے نقاب کریں تاکہ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔






