انتہا پسند اسرائیلی وزیر کا حزب اللہ پر دباؤ ڈالنے کیلئے لبنانی خواتین اور نوجوانوں کو اغوا کرنے کا مطالبہ

0
447

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمر بن گویر نے حزب اللہ کے خلاف اقدامات کے حوالے سے ایک متنازع تجویز پیش کرتے ہوئے لبنانی خواتین اور نوجوانوں کو حراست میں لینے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے بعد سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اتمر بن گویر نے یہ تجویز اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے ایک اجلاس کے دوران پیش کی۔ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کے خلاف روایتی حکمت عملی سے ہٹ کر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول صرف عسکری کارروائیوں یا مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کے بجائے ایسے اقدامات کیے جائیں جو تنظیم پر زیادہ دباؤ ڈال سکیں۔

رپورٹس کے مطابق بن گویر نے تجویز دی کہ لبنانی خواتین اور نوجوانوں کو حراست میں لے کر اسرائیلی جیلوں میں منتقل کیا جائے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس نوعیت کے اقدامات حزب اللہ پر نفسیاتی اور سیاسی دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ 2024 کی جنگ کے بعد اسرائیلی افواج متعدد لبنانی شہریوں کو حراست میں لے چکی ہیں، تاہم ان افراد کی درست تعداد سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض افراد کو اسرائیل کے ’’غیر قانونی جنگجو‘‘ قانون کے تحت زیر حراست رکھا گیا ہے۔

یہ قانون 2002 میں نافذ کیا گیا تھا، جس کے تحت مخصوص حالات میں ایسے افراد کو بغیر باضابطہ فردِ جرم کے حراست میں رکھا جا سکتا ہے جنہیں سکیورٹی خطرہ قرار دیا جائے۔ انسانی حقوق کی مختلف تنظیمیں ماضی میں اس قانون پر تنقید کرتی رہی ہیں اور اسے بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم قرار دیتی رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بن گویر کا حالیہ بیان لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے اور اس پر آنے والے دنوں میں مزید ردعمل متوقع ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا