وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں نئی کابینہ کی تشکیل سے قبل ہی وزارتوں کی بولیاں لگ رہی ہیں اور اہم وزارتوں کے لیے ایک ارب سے 70 کروڑ روپے تک کا ریٹ طے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں تمام فیصلے میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔
بیرسٹر سیف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ نواز شریف کے ہیلتھ کارڈ پر اپنی مہر لگوانے والے کس منہ سے کاپی پیسٹ کے طعنے دے رہے ہیں۔ دوسری جانب بیرسٹر سیف نے الزام لگایا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے آئمہ کرام کے لیے وظیفہ مقرر کرکے خیبر پختونخوا کے منصوبے کی نقل کی ہے۔
بیرسٹر سیف نے یہ بھی کہا کہ پنجاب میں منصوبے کمیشن کی بنیاد پر شروع ہوتے ہیں۔ انہوں نے پیشکش کی کہ اگر پنجاب حکومت صحت کارڈ کی سہولت دینا چاہے تو خیبر پختونخوا حکومت تعاون کے لیے تیار ہے۔






