وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اینٹی کرپشن سرکل نے ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی کے خلاف 16 ارب روپے سے زائد غیرمجاز انکم ٹیکس ریفنڈ جاری کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق یہ ادائیگیاں مئی 2019 سے جنوری 2020 کے دوران کی گئیں۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ جن کمپنیوں کو ریفنڈ دیا گیا، ان میں 3 بینک، 2 سیمنٹ کمپنیاں اور ایک کیمیکل کمپنی شامل ہیں، جو شبر زیدی کی تعیناتی سے پہلے اُن کی پرائیویٹ فرم کے کلائنٹس تھے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ ادائیگیاں ایف بی آر اہلکاروں کی ملی بھگت سے غیرمجاز طور پر کی گئیں۔
29 اکتوبر کو درج کی گئی ایف آئی آر میں شبر زیدی سمیت ایف بی آر کے متعدد اہلکاروں اور بینک افسران کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق تفتیش میں یہ شواہد سامنے آئے کہ سابق چیئرمین کے دور میں خطیر رقم قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریفنڈ کی گئی، جس پر انسداد بدعنوانی ایکٹ اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔





