امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ دفاع کو فوری طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ بوسان، جنوبی کوریا سے روانگی سے قبل انہوں نے کہا کہ امریکا کو چین اور روس جیسے ممالک کے برابر رہنے کے لیے یہ قدم ضروری ہے۔
ٹرمپ نے بتایا کہ جنوبی کوریا کو اپنی پہلی جوہری آبدوز بنانے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے، جو امریکا کے شہر فلاڈیلفیا میں تیار کی جائے گی۔ ان کے مطابق نئی آبدوزیں پرانی ڈیزل آبدوزوں کی جگہ لیں گی اور زیادہ جدید اور طاقتور ہوں گی۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ دیگر ممالک مسلسل اپنے ایٹمی پروگراموں کے تجربات جاری رکھے ہوئے ہیں، اس لیے امریکا بھی دوبارہ تجربات کرے گا۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ ایٹمی دھماکوں کی بات کر رہے ہیں یا میزائل تجربات کی۔
امریکا نے آخری ایٹمی دھماکا 1992 میں کیا تھا، جس کے بعد تجربات پر پابندی لگا دی گئی۔ اس وقت امریکا کے پاس 5,550 کے قریب جوہری ہتھیار ہیں جبکہ چین اور روس اپنے ذخائر میں تیزی سے اضافہ کر رہے ہیں۔






