واشنگٹن میں جاری ایک رپورٹ کے مطابق یوٹیوب نے خاموشی سے فلسطینی انسانی حقوق کی تین بڑی تنظیموں کے اکاؤنٹس حذف کر دیے، جس کے نتیجے میں اسرائیلی تشدد اور جنگی جرائم سے متعلق 700 سے زائد ویڈیوز پلیٹ فارم سے غائب ہو گئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام سابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے ان تنظیموں اور آئی سی سی سے تعاون کرنے والے افراد پر پابندیوں کے بعد اٹھایا گیا۔ متاثرہ اداروں میں الحق، المیزان سینٹر فار ہیومن رائٹس اور فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق شامل ہیں، جو پہلے ہی بین الاقوامی فوجداری عدالت کو شواہد فراہم کر چکے تھے۔
ان حذف شدہ مواد میں شیریں ابو عاقلہ کے قتل کی تحقیقات، اسرائیلی تشدد کا شکار افراد کی گواہیاں اور بچوں کی شہادت سے متعلق دستاویزی ریکارڈ شامل تھا۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ یوٹیوب کا یہ قدم انسانی حقوق کی آواز دبانے کے مترادف ہے۔
یوٹیوب نے تصدیق کی ہے کہ ویڈیوز پابندیوں اور تجارتی قوانین کی پابندی کے تحت حذف کی گئیں۔ اگرچہ کچھ مواد دیگر پلیٹ فارمز پر موجود ہے، لیکن مکمل ریکارڈ اب دستیاب نہیں رہا۔






