پیپلز پارٹی 27ویں آئینی ترمیم پر مک مکا کے چکر میں ہے: اسد قیصر

0
482

اسلام آباد: پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی 27ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر “مک مکا” کی کوشش کر رہی ہے۔

ہائی کورٹ میں مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے سے متعلق درخواست دائر کرنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم پیپلز پارٹی کی سیاست کے لیے اہم سوال ہے، اور پیپلز پارٹی کو اس پیکیج کو مکمل طور پر مسترد کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کے نانا اور والدہ نے جمہوریت کے لیے بڑی جدوجہد کی، جبکہ 1973 کا آئین ذوالفقار علی بھٹو کا بڑا تحفہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کے تحفظ کے لیے واضح مؤقف اپنائے، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ لین دین کے ذریعے معاملہ چلانا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی شاید دو تین نکات پر حکومت کا ساتھ دے اور دو تین نکات پر مخالفت کرے۔ اسد قیصر نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی واضح طور پر ڈٹ گئی تو یہ ان کی عملی سیاست میں واپسی کا آغاز ہوگا۔

عدلیہ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالتوں کا سائلین سے سخت رویہ تشویش ناک ہے، اور انتظامیہ کے دباؤ پر عدلیہ میں مداخلت جیسے اقدامات عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تین رکنی بینچ کے فیصلے پر عمل نہ ہونا عدلیہ کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ جب تک ججز خود کھڑے نہیں ہوں گے، عدلیہ آزاد نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کے پی ہاؤس پر پولیس کے چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آئینی تحفظ والی جگہوں پر ایسے اقدامات نفرت میں اضافہ اور فیڈریشن کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

آخر میں انہوں نے حامد رضا کی جمہوریت اور قانون کے لیے خدمات کو سراہا اور ان پر قائم مقدمات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے ان کے کیسز جلد مقرر ہوں گے تاکہ انہیں انصاف ملے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا