آرٹیکل 6 میں بھی تبدیلی کا فیصلہ

0
316

اسلام آباد میں حکومت نے 27ویں آئینی ترمیمی بل میں نئی تبدیلیاں لانے کا فیصلہ کیا ہے، جو قومی اسمبلی میں پیش کی جائیں گی۔ حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے اضافی ترامیم کی الگ فہرستیں موجود ہیں۔ اسمبلی سے منظوری کے بعد بل دوبارہ سینیٹ بھیجا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ ترامیم کے بعد آئینی مسودے کی مجموعی شقیں 59 سے بڑھ کر 62 تک ہونے کا امکان ہے۔ ایک اہم ترمیم میں “چیف جسٹس” کی جگہ “چیف جسٹس آف پاکستان” کی اصطلاح شامل کی جائے گی تاکہ قانونی ابہام دور ہو سکے۔

آرٹیکل 6 کی شق 2 اے میں بھی ترمیم کی جائے گی، جس کے تحت بغاوت سے متعلق کسی بھی اقدام کی توثیق آئینی عدالت سمیت کسی عدالت سے نہیں کی جا سکے گی۔ یہ ترمیم سنگین غداری کے جرائم کو مزید واضح کرنے کے لیے لائی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ترامیم اگلے روز سینیٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس کے لیے حکمران اتحاد نے تمام سینیٹرز کو لازمی حاضری کی ہدایت دی ہے۔ نئی ترامیم آئینی عدالت کے ڈھانچے اور عدالتی عہدوں کی واضح تعریف کے لیے تیار کی گئی ہیں۔

حکومتی ذرائع نے مزید ترامیم لانے کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ اپوزیشن کی گیارہ ترامیم بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔ ترامیم کو پیش کرنے سے قبل وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔

دو روز قبل سینیٹ 27ویں آئینی ترمیم پہلے ہی دو تہائی اکثریت سے منظور کر چکا ہے۔ اس موقع پر کچھ ارکان نے حمایت کی جبکہ دیگر نے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے منحرف سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے استعفے پر کارروائی روک دی گئی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے ان کے استعفے پر دستخط نہیں کیے اور آرٹیکل 63 اے کے تحت ریفرنس بھی نہ بھیجا جا سکا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا