وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں کہا کہ وانا اور اسلام آباد کچہری کے واقعات میں بیرونی مداخلت واضح ہے اور ان حملوں میں بھارت شامل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغان حکام اپنے علاقے کو دہشت گردوں کے استعمال سے روکیں۔
وزیر اعظم نے وانا حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور افواجِ پاکستان کو طلبہ و اساتذہ کو بحفاظت نکالنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وانا کے حملہ آوروں میں کچھ افغان عناصر بھی شامل تھے اور یہ بات ہمیں فکر مند کرتی ہے۔
اسلام آباد کچہری میں ہوئے دلخراش حملے کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اس واقعے میں 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے اور افغانستان کو بھی امن میں برابر شریک ہونے کی دعوت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے چالیس سال تک افغان مہمانوں کی میزبانی کی، مگر آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ دنیا دیکھ رہی ہے۔
شہباز شریف نے اظہارِ خیال میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالت کے قیام سے میثاقِ جمہوریت کے اہداف پورے ہوں گے اور وہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کو فیلڈ مارشل کا ٹائٹل دینے کے فیصلے کو قوم نے سراہا اور افواج و قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف انتھک جدوجہد کر رہے ہیں، جنہوں نے بیش قیمت قربانیاں دی ہیں۔
وزیرِ اعظم نے زور دے کر کہا کہ وفاق کو کمزور کرنے والی کسی بھی تجویز کی حمایت نہیں کی جائے گی؛ قومی مفاد اور یکجہتی اولین ترجیح ہے، اور وہی اقدامات قابلِ قبول ہوں گے جو وفاق کی مضبوطی کو برقرار رکھیں۔






